Meeting with Minster of Information Punjab by Delegation of High Court Bar ...Ashraf Asmi
لاہور ہائی کورٹ بار کے خصوصی وفد کی نرگس ناھید راؤ اور صاحبزادہ اشرف عاصمی کی قیادت میں صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان سے خصوصی ملاقات
اشرف عاصمی ایڈووکیٹ کی کتاب قانون کی حاکمیت اورہائی کورٹ بار کا سوینیئر وزیر اطلاعات فیا ض الحسن چوہان کو پیش کیاگیا
(لاہور )جمہوریت اور ملکی مسائل کے حل کے لیے وکلاء برادری کا کردار انتہائی اہم ہے۔ جب بھی وطن کو ضرورت پڑی پاکستان بھر کے وکلاء نے اپنا بھر پور کردار ادا کیا ہے۔ اِن خیالات کا اظہار صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے لاہور ہائی کورٹ کے وکلاء کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا وفد کی قیادت ڈاکٹر نرگس ناھید راؤ ایڈووکیٹ چیئرپرسن ایجوکیشن اینڈ کلچرل کمیٹی لاہور ہائی کورٹ بار اور صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ چیئرمیں ہیومن رائٹس فرنٹ انٹرنیشنل نے کی ۔ اِس موقع پر شمیم اختر بٹ، وردہ سعید، اُلفت رانی ایڈووکیٹس بھی موجود تھیں۔ صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان کا اِس موقع پر کہنا تھا کہ وکلاء ملک کی سماجی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ نے اِس موقع پر اپنی کتاب قانون کی حاکمیت وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان کو پیش کی۔صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ نے قانون کی حاکمیت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی معاشرے میں اِس کے باسیوں کے مابین رہنے سہنے اور ایک دوسرے کے ساتھ اچھے بُرے برتاؤ کے کچھ اصول و ضوبط ہوا کرتے ہیں۔۔ ایسے ممالک میں عام طور پر حکمران ممالک کی زبان میں کاروبارِ حکومت چلایا رہا ہوتا ہے۔جس کے سبب اِن ممالک کے عوام علوم وفنون اور خصوصاً قانونی معاملات اور اپنے بنیادی حقوق سے نابلد رہتے ہیں یا انہیں بزور نابلد رکھا جاتا ہے۔ مجھے گزشتہ تین دہائیوں کی پیشہ ورانہ زندگی میں اپنے ہاں بھی کچھ ایسا ہی ماحول نظر آیا ہے۔ہماری % 70 فیصد آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔کروڑوں افراد صحت و صفائی اور پینے کے صاف پانی تک سے محروم ہیں۔ ناخواندگی کی سطع خطے کے دیگر ممالک کے مقابلہ میں سب سے بلند ہے۔ سکول و کالج کی بنیادی تعلیم سے لاکھوں افراد دور رہنے پر مجبور نظر آتے ہیں۔تو کون کس طرح اپنے حقوق کی حفاظت کر سکتا ہے۔ جبکہ اِسے ا پنے حقوق سے آگہی اور ملکی قوانین کی سوجھ بوجھ ہی نہ ہو۔ تمام قانون کی کتب غیر ملکی زبان میں ہونے کے سبب کوئی پھر کیوں نہ کہے گا کہ مجھے قانونی کُتب تک رسائی نہیں ہوئی یا مجھے ملکی قانونی کا علم نہ تھا۔جی ہاں جب تک ریاست اپنے شہریوں کو ترقی کے یکساں ذرائع و مواقع فراہم نہیں کرتی تو کو ئی کس طرح ایسے امتیازی سلوک والے معاشرہ کو پُرامن معاشرہ یا پُرامن ملک کہ سکتا ہے۔کچھ ایسے ہی خیالات کو سامنے رکھتے ہوئے زیرِ نظر کتاب’’قانون کی حاکمیت ’’خصوصاً قومی زبان اُردو میں تحریر کی گئی ہے۔جس میں خصوصیت کے ساتھ ایسے قانونی موضوعات کو زیرِ بحث لایا گیا ہے جو کہ عوام النا س کی زندگی کے قریب ہیں۔ ڈاکٹر نرگس ناھید راؤ ایڈووکیٹ چیئرپرسن ایجوکیشن اینڈ کلچرل کمیٹی لاہور ہائی کورٹ بار نے صاحبزادہ اشرف عاصمی ایڈووکیٹ کی کتاب کے حوالے سے لاہور ہائی وکرٹ بار کا سوینیئر وزیر اطلاعات فیض الحن چوہان کو پیش کیا۔اِس موقع ڈاکٹر نرگس ناہید راؤ ایڈووکیٹ چیئرپرسن ایجوکیشن اینڈ کلچرل کمیٹی لاہور ہائی کورٹ بار نے لاہور ہائی کورٹ بار میں علمی و ثقافتی سرگرمیوں کے حوالے سے وزیر اطلاعات کو آگاہ کیا۔
اشرف عاصمی ایڈووکیٹ کی کتاب قانون کی حاکمیت اورہائی کورٹ بار کا سوینیئر وزیر اطلاعات فیا ض الحسن چوہان کو پیش کیاگیا
(لاہور )جمہوریت اور ملکی مسائل کے حل کے لیے وکلاء برادری کا کردار انتہائی اہم ہے۔ جب بھی وطن کو ضرورت پڑی پاکستان بھر کے وکلاء نے اپنا بھر پور کردار ادا کیا ہے۔ اِن خیالات کا اظہار صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے لاہور ہائی کورٹ کے وکلاء کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا وفد کی قیادت ڈاکٹر نرگس ناھید راؤ ایڈووکیٹ چیئرپرسن ایجوکیشن اینڈ کلچرل کمیٹی لاہور ہائی کورٹ بار اور صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ چیئرمیں ہیومن رائٹس فرنٹ انٹرنیشنل نے کی ۔ اِس موقع پر شمیم اختر بٹ، وردہ سعید، اُلفت رانی ایڈووکیٹس بھی موجود تھیں۔ صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان کا اِس موقع پر کہنا تھا کہ وکلاء ملک کی سماجی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ نے اِس موقع پر اپنی کتاب قانون کی حاکمیت وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان کو پیش کی۔صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ نے قانون کی حاکمیت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی معاشرے میں اِس کے باسیوں کے مابین رہنے سہنے اور ایک دوسرے کے ساتھ اچھے بُرے برتاؤ کے کچھ اصول و ضوبط ہوا کرتے ہیں۔۔ ایسے ممالک میں عام طور پر حکمران ممالک کی زبان میں کاروبارِ حکومت چلایا رہا ہوتا ہے۔جس کے سبب اِن ممالک کے عوام علوم وفنون اور خصوصاً قانونی معاملات اور اپنے بنیادی حقوق سے نابلد رہتے ہیں یا انہیں بزور نابلد رکھا جاتا ہے۔ مجھے گزشتہ تین دہائیوں کی پیشہ ورانہ زندگی میں اپنے ہاں بھی کچھ ایسا ہی ماحول نظر آیا ہے۔ہماری % 70 فیصد آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔کروڑوں افراد صحت و صفائی اور پینے کے صاف پانی تک سے محروم ہیں۔ ناخواندگی کی سطع خطے کے دیگر ممالک کے مقابلہ میں سب سے بلند ہے۔ سکول و کالج کی بنیادی تعلیم سے لاکھوں افراد دور رہنے پر مجبور نظر آتے ہیں۔تو کون کس طرح اپنے حقوق کی حفاظت کر سکتا ہے۔ جبکہ اِسے ا پنے حقوق سے آگہی اور ملکی قوانین کی سوجھ بوجھ ہی نہ ہو۔ تمام قانون کی کتب غیر ملکی زبان میں ہونے کے سبب کوئی پھر کیوں نہ کہے گا کہ مجھے قانونی کُتب تک رسائی نہیں ہوئی یا مجھے ملکی قانونی کا علم نہ تھا۔جی ہاں جب تک ریاست اپنے شہریوں کو ترقی کے یکساں ذرائع و مواقع فراہم نہیں کرتی تو کو ئی کس طرح ایسے امتیازی سلوک والے معاشرہ کو پُرامن معاشرہ یا پُرامن ملک کہ سکتا ہے۔کچھ ایسے ہی خیالات کو سامنے رکھتے ہوئے زیرِ نظر کتاب’’قانون کی حاکمیت ’’خصوصاً قومی زبان اُردو میں تحریر کی گئی ہے۔جس میں خصوصیت کے ساتھ ایسے قانونی موضوعات کو زیرِ بحث لایا گیا ہے جو کہ عوام النا س کی زندگی کے قریب ہیں۔ ڈاکٹر نرگس ناھید راؤ ایڈووکیٹ چیئرپرسن ایجوکیشن اینڈ کلچرل کمیٹی لاہور ہائی کورٹ بار نے صاحبزادہ اشرف عاصمی ایڈووکیٹ کی کتاب کے حوالے سے لاہور ہائی وکرٹ بار کا سوینیئر وزیر اطلاعات فیض الحن چوہان کو پیش کیا۔اِس موقع ڈاکٹر نرگس ناہید راؤ ایڈووکیٹ چیئرپرسن ایجوکیشن اینڈ کلچرل کمیٹی لاہور ہائی کورٹ بار نے لاہور ہائی کورٹ بار میں علمی و ثقافتی سرگرمیوں کے حوالے سے وزیر اطلاعات کو آگاہ کیا۔










Comments
Post a Comment